سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ باب: : نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلاتَهُ ، وَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا فَهُمَا تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ " . زَادَ هَذَا فِي حَدِيثِهِ : " قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ " ، وَتَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ مِنْ رِوَايَةِ مُوسَى بْنِ دَاوُدَ عَنْهُ.سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو نماز پڑھنے کے دوران شک ہو جائے کہ اس نے تین رکعت ادا کی ہیں یا چار رکعت ادا کی ہیں، تو ایک مزید رکعت ادا کرے، یہاں تک کہ اسے وہ شک زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو، پھر اس کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعت ادا کی ہوں گی، تو اس میں سے چار جفت تعداد اس کی نماز ہو جائے گی اور اگر اس نے مکمل نماز ادا کی ہو گی، تو یہ دونوں شیطان کی رسوائی کا باعث ہوں گی۔“ اس روایت میں راوی نے ’سلام سے پہلے‘ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔