سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ باب: : نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حدیث نمبر: 1396
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ثُمَّ يَسْجُدُ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلاتَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ أَرْبَعًا أَرْغَمَتَا أَنْفَ الشَّيْطَانِ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو اندازہ نہ ہو سکے کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں، تین یا چار، تو وہ مزید ایک رکعت پڑھ لے اور پھر اس کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کرے، جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو)، اگر وہ پانچ رکعت ادا کر لیتا ہے، تو اس میں سے جفت تعداد (یعنی چار رکعت) اس کی نماز ہو جائے گی اور اگر وہ چار رکعت ادا کر لیتا ہے، تو یہ دونوں شیطان کو رسوا کر دیں گے۔“