سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ باب: : نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلا يَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ ، فَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً ، وَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الثَّلاثِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ ، وَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلاثًا ، حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ " . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ : قَالَ لِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَسْنَدَ لَكَ مَكْحُولٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : مَا سَأَلْتُهُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ ذَكَرَهُ عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ .مکحول بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے یہ اندازہ نہ ہو سکے کہ اس نے زیادہ (رکعات) پڑھ لی ہیں یا کم پڑھی ہیں، تو اگر شک ایک رکعت یا دو رکعت کے بارے میں ہو، تو اسے ایک سمجھے، اگر دو اور تین ہونے کے بارے میں ہو، تو اسے دو سمجھے، اگر تین اور چار ہونے کے بارے میں ہو، تو اسے تین سمجھے، یہاں تک کہ اسے وہم زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف سے منقول ہے۔