سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ باب: : نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْجَمَّالِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كُلَيْبَةٌ وَحِمَارٌ لَنَا ، فَمَا نَهْنَهَهُمَا وَمَا رَدَّهُمَا " .محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم اپنی رہائش گاہ میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، آپ کے سامنے سے چھوٹا کتا اور گدھا گزرے، جو ہمارے (پالتو) تھے، لیکن ہم نے انہیں روکا نہیں اور انہیں واپس نہیں کیا۔