سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ باب: : نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلانِيُّ ، نا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَمْرٍو الْمَعْرُوفُ بِالْخَوْلانِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ : عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَمَرَّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حِمَارٌ ، فَقَالَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا سُبْحَانَ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ ، قَالَ : " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ کے سامنے سے کچھ گدھے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں میں عیاش بن ابوربیعہ نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو ارشاد فرمایا: ”ابھی کون سبحان اللہ کہہ رہا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے کہا ہے، کیونکہ میں نے یہ بات سن رکھی ہے کہ گدھا آگے سے گزرے، تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی چیز (آگے سے گزرے) نماز کو نہیں توڑتی۔“