سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ باب: : شیطان کا نمازی کے سامنے آنا تاکہ اس کی نماز خراب کردے
حدیث نمبر: 1377
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ ، ثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَرَوِيُّ ، ثنا الْمُقْرِئُ ، قَالا : نا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوُضُوءُ مِفْتَاحُ الصَّلاةِ ، وَالتَّكْبِيرُ تَحْرِيمُهَا ، وَالتَّسْلِيمُ تَحْلِيلُهَا ، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَسَلِّمْ " . قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ : يَعْنِي التَّشَهُّدَ.محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وضو نماز کی کنجی ہے، تکبیر کہہ کر اس کا آغاز ہوتا ہے اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے، ہر دو رکعت کے بعد تم سلام پھیر دیا کرو۔“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد تشہد پڑھنا ہے (یعنی ہر دو رکعت کے بعد تم تشہد پڑھا کرو)۔