سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ باب: : شیطان کا نمازی کے سامنے آنا تاکہ اس کی نماز خراب کردے
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى صَلاةً ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي يُفْسِدُ عَلَيَّ الصَّلاةَ ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذَعَتُّهُ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ أَوْ كُلُّكُمْ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي سورة ص آية 35 ، فَرَدَّهُ اللَّهُ خَائِبًا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ آپ نے نماز ادا کی (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ نے ارشاد فرمایا: ”شیطان میرے سامنے آیا تھا تاکہ میری نماز خراب کرے، تو اللہ نے مجھے اس پر قابودے دیا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ اسے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ صبح تم لوگ اسے دیکھ لو۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر مجھے سیدنا سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آگئی: ”اے میرے پروردگار! مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو اللہ نے اس شیطان کو رسوا کر کے واپس کر دیا۔