سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ وَهُوَ جُنُبٌ أَوْ مُحْدِثٌ باب: : امام جب جنابت یا بےوضو حالت میں ہو، اس وقت اس کا نماز ادا کرنا
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ مَسَّ ذَكَرَهُ ، فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا " . قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ : " عَلِمْتُ أَنَّ أَحَدًا قَالَ : يُعِيدُونَ ، قَالَ : لا ، إِلا حَمَّادٌ ".نافع بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، بعد میں انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تھا (جس کی وجہ سے ان کا وضو ٹوٹ چکا تھا)، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دوبارہ وضو کیا (اور دوبارہ نماز ادا کی)، البتہ انہوں نے ان لوگوں کو وہ نماز دوبارہ ادا کرنے کی ہدایت نہیں کی۔ ابن مہدی بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے دریافت کیا: کیا آپ اس بات سے واقف ہیں کہ کسی راوی نے یہ بات بھی نقل کی ہو؟ ان لوگوں نے بھی دوبارہ نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، صرف حماد نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے۔