سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ وَهُوَ جُنُبٌ أَوْ مُحْدِثٌ باب: : امام جب جنابت یا بےوضو حالت میں ہو، اس وقت اس کا نماز ادا کرنا
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ " صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلامًا ، فَقَالَ : " كَبِرْتُ وَاللَّهِ أَلا أَرَانِي أَجْنُبُ ثُمَّ لا أَعْلَمُ " ، ثُمَّ أَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : سَأَلْتُ سُفْيَانَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَلا أَجِيءُ بِهِ كَمَا أُرِيدُ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَهُوَ هَذَا الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الْجُنُبُ يُعِيدُ وَلا يُعِيدُونَ ، مَا أَعْلَمُ فِيهِ اخْتِلافًا ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَلا أَحْفَظُهُ . وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھا دی، وہ اس وقت جنابت کی حالت میں تھے، بعد میں جب انہوں نے اپنے کپڑے پر احتلام کا نشان دیکھا، تو بولے: میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! میرا خیال ہے مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، لیکن مجھے اس کا پتا نہیں چل سکا، پھر حضرت عثمان نے نماز کو دہرایا اور البتہ انہوں نے لوگوں کو وہ نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس بات پر اتفاق ہے کہ جنابت والا شخص اس نماز کو دہرائے گا، البتہ لوگ اس نماز کو دوبارہ ادا نہیں کریں گے، میرے علم کے مطابق اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔