سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ وَهُوَ جُنُبٌ أَوْ مُحْدِثٌ باب: : امام جب جنابت یا بےوضو حالت میں ہو، اس وقت اس کا نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 1363
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ فِي صَلاتِهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ مَنْ خَلْفَهُ ، فَانْصَرَفَ فَأَشَارَ إِلَى أَصْحَابِهِ أَيْ كَمَا أَنْتُمْ ، فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ " . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : وَبِهِ نَأْخُذُ.محمد محی الدین
سیدنا بکر بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا، آپ نے تکبیر کہی، آپ کے پیچھے موجود لوگوں نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو توڑ دیا اور اپنے اصحاب کو اشارہ کیا کہ تم لوگ جس حالت میں ہو، ویسے ہی رہنا، تو وہ لوگ قیام کی حالت میں رہے، یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ عبدالوہاب نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہم بھی اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔