سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ مَا يَخْرُجُ مِنَ الصَّلَاةِ بِهِ وَكَيْفِيَّةِ التَّسْلِيمِ باب: : نماز سے کیسے باہر آیا جائے ؟ سلام پھیرنے کا طریقہ
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " مَا نَسِيتُ مِنَ الأَشْيَاءِ فَلَمْ أَنَسَ تَسْلِيمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدَّيْهِ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں جو کچھ مرضی بھول جاؤں، لیکن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز کے دوران سلام کرنے کا طریقہ نہیں بھولوں گا۔ آپ دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں رخساروں کی سفیدی کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔