سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ مَا يَخْرُجُ مِنَ الصَّلَاةِ بِهِ وَكَيْفِيَّةِ التَّسْلِيمِ باب: : نماز سے کیسے باہر آیا جائے ؟ سلام پھیرنے کا طریقہ
حدیث نمبر: 1349
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا حُمَيْدٌ الرُّوَاسِيُّ ، ثنا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ ، وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ " ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ يَفْعَلانِ ذَلِكَ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد ہے، آپ ہر مرتبہ اٹھتے ہوئے اور جھکتے ہوئے، قیام کرتے ہوئے اور بیٹھتے ہوئے تکبیر کہا کرتے تھے اور آپ دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔ (سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں) میں نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔