حدیث نمبر: 1338
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْخَيَّاطُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَوْ أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : عَلَّمَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ التَّشَهُّدَ ، وَقَالَ : عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمُ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَصَلَوَاتُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . قَالَ : وَكَانَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ : إِذَا سَلَّمَ فَبَلَغَ ، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَقَدْ سَلَّمَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَأَهْلِ الأَرْضِ . ابْنُ مُجَاهِدٍ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین

مجاہد بیان کرتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ابومعمر نے یہ بات بیان کی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے تشہد کے کلمات سکھائے اور یہ بات بیان کی کہ یہ کلمات مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سکھائے تھے، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیا کرتے تھے (وہ کلمات یہ ہیں): ”تمام پاکیزہ اور جسمانی اور قولی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کر اور ان کے اہل بیت پر بھی، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم پر درود نازل کیا، بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ! تو ان کے ساتھ ہم پر بھی درود نازل کر، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت پر برکتیں نازل کر، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم پر برکتیں نازل کیں، بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ! ان کے ساتھ ہم پر بھی برکتیں نازل کر، اللہ کا درود، اہل ایمان کا درود محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو، جو نبی ہیں، امی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔“ مجاہد فرماتے ہیں: جب انسان سلام بھیجتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کرے، اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، تو اس نے آسمان اور زمین میں بسنے والے تمام لوگوں پر سلام بھیج دیا ہے۔ عبدالوہاب بن مجاہد نامی راوی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1338
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: ابن مجاهد ضعيف الحديث ، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (5 / 186)»