سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ التَّشَهُّدِ وَوُجُوبِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهِ باب: : تشہد کا طریقہ، اس کا واجب ہونا، اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، وَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ ، وَزَعَمَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا قَضَيْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْلِسَ فَاجْلِسْ " .قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ تھاما، انہیں یہ بتایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (جو یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جب تم یہ پورا کر لو گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) جب تم ایسا کر لو گے، تو تم نے اپنی نماز کو ادا کر لیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔