حدیث نمبر: 1335
وَأَمَّا حَدِيثُ شَبَابَةَ عَنْ زُهَيْرٍ ، فَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، قَالَ : وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِي ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِذَا قُلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ مِنَ الصَّلاةِ فَإِذَا شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ . شَبَابَةُ ثِقَةٌ ، وَقَدْ فَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ جَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَدْرَجَ آخِرَهُ فِي كَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَقَدْ قَالَ : تَابَعَهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَغَيْرُهُ ، فَرَوَوْهُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ كَذَلِكَ ، وَجَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ كَلامِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین

قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام کر یہ بتایا تھا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (وہ کلمات یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تم یہ پڑھ لو گے، تو تم نے اپنے اوپر لازم نماز کو ادا کر دیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔ یہاں پر اس روایت کے راوی شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے روایت کے آخر میں الگ سے یہ بات ذکر کی ہے، یہ کلمات سیدنا عبداللہ بن مسعود کا کلام ہیں اور یہ روایت اس روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے، جس میں ان کلمات کو نبی کے الفاظ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ بعض دیگر راویوں نے بھی اسے اسی طرح سیدنا عبداللہ کے کلام کے طور پر نقل کیا ہے، انہوں نے (اضافی کلمات کو) مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1335
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»