سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ التَّشَهُّدِ وَوُجُوبِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهِ باب: : تشہد کا طریقہ، اس کا واجب ہونا، اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّكَّرِيُّ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ خَارِجَةَ . ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْغَازِي أَبُو سَعِيدٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ خَارِجَةَ ، ثنا مُغِيثُ بْنُ بُدَيْلٍ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . هَذَا لَفْظُ ابْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَخَارِجَةُ ضَعِيفَانِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں تشہد کی تعلیم دیتے تھے: ”تمام پاکیزہ عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں) پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ ابن ابوعثمان نامی راوی کے ہیں، اس روایت کے دو راوی موسیٰ بن عبیدہ اور خارجہ یہ دونوں ضعیف ہیں۔