حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّشَهُّدِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : زِدْتُ فِيهَا وَبَرَكَاتُهُ : " السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَزِدْتُ فِيهَا وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ : " وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ عَنْ تَابَعَهُ عَلَى رَفْعِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَوَقَفَهُ غَيْرَهُمَا.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں یہ پڑھتے تھے: ”تمام قولی اور جسمانی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اس میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: اور اس کی برکتیں بھی نازل ہوں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے یہ الفاظ ہیں) ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتا ہوں: وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے یہ الفاظ ہیں) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس روایت کی سند مستند ہے، بعض راویوں نے بھی اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا، جبکہ دیگر نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1329
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 971، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2866، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1329، 1330، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5460»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 26)»