سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ وَضْعِ الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ باب: : پیشانی اور ناک کو رکھنا واجب ہے
حدیث نمبر: 1317
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُهْتَدِي ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفِ اللَّهِ الدِّمَشْقِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ بِدِمَشْقَ ، قَالا : نا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا نَاشِبُ بْنُ عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ ، ثنا مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِهِ تُصَلِّي وَلا تَضَعُ أَنْفَهَا بِالأَرْضِ ، قَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ ضَعِي أَنْفَكَ بِالأَرْضِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَضَعْ أَنْفَهُ بِالأَرْضِ مَعَ جَبْهَتِهِ فِي الصَّلاةِ " . نَاشِبٌ ضَعِيفٌ ، وَلا يَصِحُّ مُقَاتِلٌ ، عَنْ عُرْوَةَ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک اہلیہ کو دیکھا جو نماز ادا کر رہی تھی، وہ اپنی ناک زمین پر نہیں رکھ رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خاتون! تم اپنی ناک زمین پر رکھو، اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اپنی ناک اور پیشانی کے ساتھ نماز کے دوران زمین پر نہیں رکھتا۔“ اس روایت کا راوی ناصب ضعیف ہے اور مقاتل کی عروہ کے حوالے سے نقل کے حوالے سے یہ روایت مستند نہیں ہے۔