سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَمَا يُجْزِي فِيهِمَا باب: : رکوع اور سجدے کا تذکرہ، ان میں کیا جائز ہے ؟
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ حَتَّى حَاذَى بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ مَفْصِلٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ مَفْصِلٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ انْحَطَّ بِالتَّكْبِيرِ فَسَبَقَتْ رُكْبَتَاهُ يَدَيْهِ " . تَفَرَّدَ بِهِ الْعَلاءُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَفْصٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، یہاں تک کہ آپ نے اپنے دونوں انگوٹھے کانوں تک اٹھا لیے، پھر آپ رکوع میں گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر ٹھہرا، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا، یہاں تک کہ آپ کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہوئے جھکے، تو آپ نے اپنے دونوں گھٹنے دونوں ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھے۔ اس روایت کو نقل کرنے میں بھی العلاء بن اسماعیل منفرد ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔