سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ . باب: : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
حدیث نمبر: 1291
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " إِذَا أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ رُكُوعًا فَكَبَّرَ وَارْكَعْ فَإِنَّهَا تُجْزِئُكَ وَاحِدَةٌ لِلتَّكْبِيرِ وَالرُّكُوعِ " ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فِيمَنْ نَسِيَ التَّكْبِيرَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُهُ.محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: جب تم کچھ لوگوں کو رکوع کی حالت میں پاؤ، تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاؤ، تو وہ ایک تکبیر ہی تمہارے لیے تکبیر تحریمہ اور رکوع میں جانے والی تکبیر کے طور پر کافی ہو گی۔ سعید بن مسیب سے یہ بات بھی نقل کی گئی ہے: وہ یہ فرماتے ہیں: جو شخص نماز کے آغاز میں تکبیر تحریمہ کہنا بھول جائے، پھر وہ رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہے، تو ایسا کرنا اس کے لیے کافی ہو گا۔