حدیث نمبر: 1280
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، قَالا : نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلاةٍ قُرْآنٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَ هَذَا ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا كَثِيرُ ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ لا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلا قَدْ كَفَاهُمْ . وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَرَى الإِمَامَ إِلا قَدْ كَفَاهُمْ " . وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ كَمَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہر رکعت میں تلاوت کی جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ حاضرین میں سے ایک بولے: یہ لازم ہو گئی ہے۔ (اس روایت کے راوی) سیدنا ابودرداء نے (اپنے شاگرد سے) فرمایا: اے کثیر! (کثیر کہتے ہیں: میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا) میں یہ سمجھتا ہوں کہ امام جب لوگوں کو نماز پڑھاتا ہے، تو اس کا قراءت کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ امام کا قراءت کر لینا ان لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔“ راوی کو اس روایت میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے: یہ الفاظ سیدنا ابودرداء کے ہیں، جیسا کہ ابن وہب نامی راوی نے نقل کیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1280
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 922، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 997، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 842، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2955، 2956، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1280، 1505، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22134، 28177، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4120، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1288»