سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالصُّبْحِ باب: : ظہر، عصر، فجر میں قرات کی مقدار
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ ، نا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ بِ الْحَمْدِ ، وَأَوَّلِ آيَةٍ مِنَ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ الْحَمْدَ ، وَالآيَةَ الثَّانِيَةَ مِنَ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : وإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ سورة المزمل آية 20 " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَفِيهِ حُجَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ : إِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ : فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ سورة المزمل آية 20 ، إِنَّمَا هُوَ بَعْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.قیس بن ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اقتداء میں بصرہ میں نماز ادا کی۔ انہوں نے پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھی اور سورۃ بقرہ کی پہلی آیت پڑھی۔ پھر وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور سورۃ بقرہ کی دوسری آیت پڑھی۔ پھر وہ رکوع میں چلے گئے۔ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو انہوں نے ہماری طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھ سکو، اس کی تلاوت کر لو۔“ اس روایت کی سند حسن ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل موجود ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ کے اس فرمان: ”تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے، پڑھ لو“ سے مراد تلاوت ہے، جو سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد کی جاتی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔