حدیث نمبر: 1277
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي صَلاتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں جب تکبیر کہتے تھے، تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر کہنے اور قراءت کرنے کے درمیان کیا پڑھتے تھے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ پڑھتا ہوں: اے اللہ! تو میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے، اور اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا جاتا ہے، اے اللہ! میری خطاؤں کو برف، پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1277
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 744، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 598، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 465، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1775، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 60، 333، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 781، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 805، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1277، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7285»