سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ مَوْضِعِ سَكَتَاتِ الْإِمَامِ لِقِرَاءَةِ الْمَأْمُومِ باب: : امام کا (قرات کے دوران) سکوت کرنا تاکہ مقتدی بھی قرات کرے
حدیث نمبر: 1276
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً ، وَإِذَا قَرَأَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، سَكَتَ سَكْتَةً " . فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَتَبَ : أَنَّ الأَمْرَ كَمَا صَنَعَ سَمُرَةُ.محمد محی الدین
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نماز کا جب آغاز کرتے تھے، تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے۔ پھر جب ”ولا الضالین“ پڑھ لیتے تھے، تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے۔ اس بارے میں ان پر اعتراض کیا گیا۔ اس بارے میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: حکم اسی طرح ہے، جیسے سمرہ نے کیا ہے۔