حدیث نمبر: 1269
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالا : نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَرَأَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : " آمِينَ " ، وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَشَدُّ شَيْءٍ فِيهِ أَنَّ رَجُلا كَانَ يَسْأَلُ سُفْيَانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَأَظُنُّ سُفْيَانَ تَكَلَّمَ بِبَعْضِهِ ، خَالَفَهُ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ.
محمد محی الدین

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غیر المغضوب علیھم ولا الضالین“ پڑھا، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہا۔ آپ نے اس میں آواز کو کھینچا (یعنی بلند کیا)۔ اس روایت کے ایک راوی عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس بارے میں زیادہ شدید یہ ہے کہ ایک شخص نے (اس روایت کے دوسرے راوی) سفیان رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو میرا یہ خیال ہے کہ سفیان رحمہ اللہ نے اس کے بعض حصے کے بارے میں کلام کیا اور اس شخص نے دوسرے حصے کے بارے میں کلام کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ نامی راوی نے اس کی سند اور متن میں اختلاف نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1269
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 401، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 457، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1805، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 878 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 723، 725، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 248، 249، 292، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1277، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 810، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1267، 1268، 1269، 1270، 1271، 1283،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 909، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19143»