سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ التَّأْمِينِ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالْجَهْرِ بِهَا باب: : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالا : نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَرَأَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : " آمِينَ " ، وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَشَدُّ شَيْءٍ فِيهِ أَنَّ رَجُلا كَانَ يَسْأَلُ سُفْيَانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَأَظُنُّ سُفْيَانَ تَكَلَّمَ بِبَعْضِهِ ، خَالَفَهُ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ.سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غیر المغضوب علیھم ولا الضالین“ پڑھا، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہا۔ آپ نے اس میں آواز کو کھینچا (یعنی بلند کیا)۔ اس روایت کے ایک راوی عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس بارے میں زیادہ شدید یہ ہے کہ ایک شخص نے (اس روایت کے دوسرے راوی) سفیان رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو میرا یہ خیال ہے کہ سفیان رحمہ اللہ نے اس کے بعض حصے کے بارے میں کلام کیا اور اس شخص نے دوسرے حصے کے بارے میں کلام کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ نامی راوی نے اس کی سند اور متن میں اختلاف نقل کیا ہے۔