سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے" ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً فَلَمَّا قَضَاهَا ، قَالَ : " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ فِي الْقُرْآنِ إِذَا أَسْرَرْتُ بِقِرَاءَتِي فَاقْرَءُوا مَعِيَ ، وَإِذَا جَهَرْتُ بِقِرَاءَتِي فَلا يَقْرَأَنَّ مَعِيَ أَحَدٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا الْوَقَّارُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جب آپ نے اسے مکمل کر لیا تو دریافت کیا: ”کیا تم میں سے کسی شخص نے میرے ساتھ قرآن کی قراءت کی ہے؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے یا رسول اللہ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ قراءت میں کون میرا مقابلہ کر رہا ہے جب میں پست آواز میں قراءت کر رہا ہوں تو تم بھی میرے ساتھ قراءت کر لیا کرو اور جب میں بلند آواز میں قراءت کروں تو کوئی شخص میرے ساتھ قراءت نہ کرے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں زکریا نامی راوی منفرد ہے اور یہ شخص منکر الحدیث ہے اور متروک ہے۔