حدیث نمبر: 1265
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً فَلَمَّا قَضَاهَا ، قَالَ : " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ فِي الْقُرْآنِ إِذَا أَسْرَرْتُ بِقِرَاءَتِي فَاقْرَءُوا مَعِيَ ، وَإِذَا جَهَرْتُ بِقِرَاءَتِي فَلا يَقْرَأَنَّ مَعِيَ أَحَدٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا الْوَقَّارُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جب آپ نے اسے مکمل کر لیا تو دریافت کیا: ”کیا تم میں سے کسی شخص نے میرے ساتھ قرآن کی قراءت کی ہے؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے یا رسول اللہ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ قراءت میں کون میرا مقابلہ کر رہا ہے جب میں پست آواز میں قراءت کر رہا ہوں تو تم بھی میرے ساتھ قراءت کر لیا کرو اور جب میں بلند آواز میں قراءت کروں تو کوئی شخص میرے ساتھ قراءت نہ کرے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں زکریا نامی راوی منفرد ہے اور یہ شخص منکر الحدیث ہے اور متروک ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1265
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1843، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 918 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 826، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 312، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 848، 849، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2936، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1265، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7390»
«قال الدارقطني: تفرد به زكريا بن الوقار وهو منكر الحديث متروك ، سنن الدارقطني: (2 / 126) برقم: (1265)»