سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے" ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَغَيْرُهُ ، قَالُوا : نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : وَجَبَتْ هَذِهِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ إِلَيْهِ : " مَا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلا كَفَاهُمْ " . كَذَا قَالَ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، وَالصَّوَابُ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " مَا أَرَى الإِمَامَ إِلا قَدْ كَفَاهُمْ " .سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کیا ہر نماز میں قراءت کی جائے گی؟“ آپ نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں!“ تو انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی: ”تو یہ واجب ہو گئی۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کیونکہ میں حاضرین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب بیٹھا ہوا تھا: ”امام جب لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو اس کا قراءت کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔“ راوی نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے تاہم زید نامی راوی کو اس میں وہم ہوا ہے۔ (سابقہ روایت کی درست شکل یہ ہے) سیدنا ابودرداء نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ امام کا قراءت کر لینا ان سب لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔“