سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے" ۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُنَا إِذَا صَلَّى بِنَا قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . هَكَذَا أَمْلاهُ عَلَيْنَا أَبُو حَامِدٍ مُخْتَصَرًا ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ سیدنا ابوموسیٰ نے ہمیں بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قراءت کرے تو تم لوگ خاموش رہو۔“ شیخ ابوحامد نے اس روایت کو اسی طرح مختصر طور پر ہمیں املاء کروایا ہے۔ اس روایت کا راوی سالم بن نوح مستند نہیں ہے۔