سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے" ۔
حدیث نمبر: 1248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ التَّغْلِبِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : ثنا غَسَّانُ . ح وَقُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ التَّغْلِبِيُّ ، قَالا : غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ أَوْ أُنْصِتُ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْصِتْ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " . تَفَرَّدَ بِهِ غَسَّانُ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَيْسٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ ضَعِيفَانِ ، وَالْمُرْسَلُ الَّذِي قَبْلَهُ أَصَحُّ مِنْهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ”کیا میں امام کی اقتداء میں قراءت کر لیا کروں یا میں خاموش رہوں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خاموش رہا کرو یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں غسان نامی راوی منفرد ہیں اور یہ صاحب ضعیف ہیں جبکہ اس روایت کے دوسرے دو راوی قیس اور محمد بن سالم ضعیف ہیں۔ اس سے پہلے نقل کی جانے والی ’مرسل‘ روایت اس سے زیادہ مستند ہے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔