سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے" ۔
حدیث نمبر: 1244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الأَشْهَلِيُّ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كَانَ الْمُخَرِّمِيُّ يَقُولُ : هُوَ ثِقَةٌ ، يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ.محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔“ امام ابوعبدالرحمن نے یہ بات بیان کی ہے۔ مخرمی کہتے ہیں، یہ شخص ثقہ ہے یعنی محمد بن سعد نامی راوی (ثقہ) ہے۔