سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
حدیث نمبر: 1241
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلامٍ ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ثنا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ صَلاةٍ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِ أُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ إِلا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ إِمَامٍ " . يَحْيَى بْنُ سَلامٍ ضَعِيفٌ ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ .محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس نماز میں سورہ فاتحہ نہ ہو تو وہ ناقص ہوتی ہے ماسوائے اس نماز کے جو امام کی اقتداء میں ہو۔“ یحییٰ بن سلام نامی راوی ضعیف ہے۔ درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔