سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
حدیث نمبر: 1239
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالا : نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : " وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْءَانُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ سورة الأعراف آية 204 ، قَالَ : نزلت فِي رَفْعِ الأَصْوَاتِ وَهُمْ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ " . لَفْظُ ابْنِ أَبِي دَاوُدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ضَعِيفٌ.محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ”اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے، تو تم خاموش رہو اور غور سے سنو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ ایک آواز بلند کرنے کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ لوگ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ ابن ابوداؤد رحمہ اللہ نامی راوی کے ہیں۔ اس روایت کا راوی عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ ضعیف ہے۔