سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَنَهَاهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : أَتَنْهَانِي أَنْ أَقْرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَتَذَاكَرَا ذَلِكَ حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَتَهُ لَهُ قِرَاءَةٌ " . أَبُو الْوَلِيدِ هَذَا مَجْهُولٌ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي هَذَا الإِسْنَادِ جَابِرًا غَيْرُ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَالْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کی، ایک دوسرے شخص نے اس کو اشارے سے روکا، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو پہلا شخص بولا: ”کیا تم مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں قراءت کرنے سے روک رہے ہو؟“ ان دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات کو سن لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہو تو امام کی قراءت اس شخص کی قراءت شمار ہوتی ہے۔“ ابوالولید نامی راوی مجہول ہے۔ اس کی سند میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کا ذکر صرف امام ابوحنیفہ نے کیا ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے بھی منقول ہے۔