سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، ثنا عَمِّي ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بـ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ؟ " ، فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَسَأَلَهُمْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لَيَسْكُتُونَ ، ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .لیث بن سعد، امام ابویوسف اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں سورہ الاعلیٰ کی تلاوت شروع کی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو دریافت کیا: ”تم میں سے کس نے سورہ الاعلیٰ کی تلاوت کی تھی؟“ راوی بیان کرتے ہیں: سب لوگ خاموش رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین مرتبہ سوال کیا ہر مرتبہ وہ خاموش رہے پھر اس شخص نے عرض کی: ”میں نے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اندازہ ہو گیا تھا تم میں سے کوئی ایک میرے لیے دشواری پیدا کر رہا ہے۔“