حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، ثنا أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَقْرَأُ ، فَنَهَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَازَعَا ، فَقَالَ : أَتَنْهَانِي عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَتَنَازَعَا حَتَّى بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ فَإِنَّ قِرَاءَتَهُ لَهُ قِرَاءَةٌ " . وَرَوَاهُ اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ.
محمد محی الدین

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اپنی سند کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ کی اقتداء میں ایک صاحب نے قراءت کرنا شروع کر دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک نے اسے روکا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان دونوں نے بحث شروع کر دی۔ پہلے والے صاحب بولے: ”کیا آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں قراءت کرنے سے روک رہے ہیں؟“ ان دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی اس بات کا پتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہو امام کی قراءت ہی اس شخص کی قراءت شمار ہوتی ہے۔“ اس روایت کو امام لیث بن سعد نے امام ابویوسف کے حوالے سے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1234
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 850، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2940، 2941، 2942، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1233، 1234، 1236، 1237، 1253، 1254، 1501، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14869»
«قال ابن حجر: ضعيف عند الحفاظ ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 254)»