سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ باب: : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
حدیث نمبر: 1230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، ثنا شَاذَانُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ " أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ أَوْ يُحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَسُورَةٍ ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ .محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ اس بات کا حکم دیتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ اس بات کو پسند کرتے تھے: ”ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعت میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی ایک سورت پڑھی جائے اور آخری دو رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھی جائے اس وقت جب انسان امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہو۔“ اس روایت کی سند مستند ہے۔