سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ باب: : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ الْعَتِيقُ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَامَ إِلَى جَنْبِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَرَأَ مَعَ الإِمَامِ وَهُوَ يَقْرَأُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ : أَبَا الْوَلِيدِ ، تَقْرَأُ وَتَسْمَعُ وَهُوَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّا قَرَأْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَبَّحَ ، فَقَالَ لَنَا حِينَ انْصَرَفَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " قَدْ عَجِبْتُ ، قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنَ ، إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَلا تَقْرَءُوا مَعَهُ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " . مُعَاوِيَةُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ضَعِيفَانِ.سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ میرے ساتھ آکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے امام کی اقتداء میں قراءت شروع کر دی، حالانکہ امام بھی اس وقت قراءت کر رہا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو میں نے ان سے کہا: ابوولید! آپ بھی قراءت کرنے لگ پڑے تھے، حالانکہ آپ سن رہے تھے کہ امام بلند آواز میں قراءت کر رہا ہے۔ تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اسی طرح قراءت کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت میں دشواری ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سبحان اللہ“ کہا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا کوئی شخص میرے ساتھ قراءت کر رہا تھا؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی حیران ہو رہا تھا، میں یہ سوچ رہا تھا کہ کون شخص میرے ساتھ قرآن میں مقابلہ کر رہا ہے۔ جب امام قراءت کر رہا ہو، تو تم اس کے ساتھ قراءت نہ کیا کرو، البتہ سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو، کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں ہوتی۔“ معاویہ رحمہ اللہ اور اسحاق بن ابوفروہ رحمہ اللہ نامی راوی ضعیف ہیں۔