سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ باب: : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
حدیث نمبر: 1216
أَخْبَرَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَمِّي ، ثنا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ بِهَذَا ، وَقَالَ فِيهِ " إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ " ، قُلْنَا : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ، قَالَ : " لا تَفْعَلُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ".محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہیں تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو جب وہ بلند آواز سے قراءت کر رہا ہوتا ہے۔‘“ ہم نے عرض کی: ”جی ہاں، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“