حدیث نمبر: 1211
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَوَّابٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ ، قَالَ : قُلْتُ وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كُنْتُ أَنَا " ، قُلْتُ : وَإِنْ جَهَرْتَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ جَهَرْتُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

یزید بن شریک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کرنے کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے ہدایت کی: ”میں قراءت کر لیا کروں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ”خواہ آپ امام ہوں (تو بھی قراءت کر لیا کروں)؟“ انہوں نے جواب دیا: ”خواہ میں امام ہوں (تو تم بھی قراءت کر لیا کرو)۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا: ”اگرچہ آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اگرچہ میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں۔“ اس کی سند مستند ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 880، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2976، 2977، 2978، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2776، 2777، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3769، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1303»
«قال الدارقطني: رواته كلهم ثقات ، سنن الدارقطني: (2 / 95) برقم: (1210)»