سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ باب: : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
حدیث نمبر: 1211
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَوَّابٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ ، قَالَ : قُلْتُ وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كُنْتُ أَنَا " ، قُلْتُ : وَإِنْ جَهَرْتَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ جَهَرْتُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.محمد محی الدین
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کرنے کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے ہدایت کی: ”میں قراءت کر لیا کروں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ”خواہ آپ امام ہوں (تو بھی قراءت کر لیا کروں)؟“ انہوں نے جواب دیا: ”خواہ میں امام ہوں (تو تم بھی قراءت کر لیا کرو)۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا: ”اگرچہ آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اگرچہ میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں۔“ اس کی سند مستند ہے۔