سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ اخْتِلَافِ الرِّوَايَةِ فِي الْجَهْرِ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] باب: : نماز کے دوران (بسم اللہ الرحمن الرحیم ) بلند آواز سے پڑھنے کے بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، ثنا أَبُو مَسْلَمَةَ هُوَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 أَوْ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ؟ فَقَالَ : " إِنَّكَ تَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ وَمَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ " ، قُلْتُ : " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.سعید بن یزید ازدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بلند آواز میں) قراءت کا آغاز ”الحمد للہ رب العالمین“ سے کرتے تھے یا بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے، جو مجھے اچھی طرح یاد نہیں ہے اور تم سے پہلے اس کے بارے میں کسی نے مجھ سے سوال نہیں کیا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: کیا نبی جوتے پہن کر نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس کی سند صحیح ہے۔