سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، ثنا أبِي ، ثنا ابْنُ سَمْعَانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : إِنِّي رُبَّمَا كُنْتُ مَعَ الإِمَامِ ، قَالَ : فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، ثُمَّ قَالَ : اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ . فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّي قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لَهُ ، يَقُولُ عَبْدِي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَيَذْكُرُنِي عَبْدِي ، ثُمَّ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَأَقُولُ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، ثُمَّ يَقُولُ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَأَقُولُ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، ثُمَّ يَقُولُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، فَأَقُولُ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، ثُمَّ يَقُولُ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ، فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . ابْنُ سَمْعَانَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ : مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَابْنُ عَجْلانَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، وَأَبُو أُوَيْسٍ وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلافٍ مِنْهُمْ فِي الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلافِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَاب.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز پڑھتے ہوئے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا، وہ نماز مکمل نہیں ہوتی، پوری نہیں ہوتی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ! بعض اوقات میں امام کی اقتداء میں ہوتا ہوں۔ انہوں نے میری پنڈلی پر (کوئی چیز) چبھوتے ہوئے فرمایا: پھر تم دل میں اسے پڑھ لو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (میں قراءت) کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کا نصف حصہ میرے لیے ہے۔ میرا بندہ نماز کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے، تو میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ’الحمد للہ رب العالمین‘، تو میں کہتا ہوں: میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ’الرحمن‘، تو میں کہتا ہوں: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ پھر وہ کہتا ہے: ’مالک‘، تو میں کہتا ہوں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ پھر وہ کہتا ہے: ’إیاک نعبد وإیاک نستعین‘، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہو گی۔ سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے، وہ اسے ملے گا۔“ ابن سمعان رحمہ اللہ نامی راوی، عبداللہ بن سمعان ہے اور یہ شخص متروک الحدیث ہے۔ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ ان راویوں میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ، شیخ ابن جریج رحمہ اللہ، شیخ روح بن قاسم رحمہ اللہ، شیخ ابن عیینہ رحمہ اللہ، ابن عجلان رحمہ اللہ، حسن بن حر رحمہ اللہ، ابواویس رحمہ اللہ اور دیگر حضرات شامل ہیں۔ ان حضرات نے اس روایت کی سند میں اختلاف نقل کیا ہے، تاہم متن پر ان کا اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی روایت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ نقل نہیں کیے۔ تو ان تمام حضرات کا متفقہ طور پر ابن سمعان رحمہ اللہ کی نقل کردہ روایت کے خلاف نقل کرنا درست سمجھا جائے گا، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔