سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ السِّنْدِيِّ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالا : نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَلَمْ يَقْرَأْ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حِينَ افْتَتَحَ الْقُرْآنَ ، وَقَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ مِنْ نَاحِيَةَ الْمَسْجِدِ ، فَقَالُوا : أَتَرَكْتَ صَلاتَكَ يَا مُعَاوِيَةُ ؟ أَنَسِيتَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ؟ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الأُخْرَى قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . قَالَ الشَّيْخُ : وَرَوَى الْجَهْرَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَمِنْ أَزْوَاجِهِ غَيْرَ مَنْ سَمَّيْنَا ، كَتَبْنَا أَحَادِيثَهُمْ بِذَلِكَ فِي كِتَابِ الْجَهْرِ بِهَا مُفْرَدًا ، وَاقْتَصَرْنَا هَاهُنَا عَلَى مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ طَلَبًا لِلاخْتِصَارِ وَالتَّخْفِيفِ ، وَكَذَلِكَ ذَكَرْنَا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَحَادِيثَ مَنْ جَهَرَ بِهَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ لَهُمْ وَالْخَالِفِينَ بَعْدَهُمْ ، رَحِمَهُمُ اللَّهُ.اسماعیل بن عبید رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ تشریف لائے۔ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قراءت کے آغاز میں (بلند آواز میں) بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی اور سورۃ فاتحہ پڑھنی شروع کر دی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی، تو مہاجرین اور انصار مسجد کے مختلف گوشوں سے اٹھ کر ان کے پاس آئے اور بولے: اے معاویہ! آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم جان بوجھ کر ترک کی ہے یا اسے پڑھنا بھول گئے تھے؟ (راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اگلی نماز پڑھائی، تو اس میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔) امام دار قطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بارے میں جو روایات ہم نے نقل کی ہیں، ان کے علاوہ بعض دیگر صحابہ اور ازواج مطہرات نے بھی یہ بات نقل کی ہے۔ ہم نے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے مسئلے میں ان روایات کو الگ طور پر اکٹھا کیا ہے۔ یہاں ہم نے اختصار کے ساتھ وہ روایات نقل کی ہیں، جو پہلے گزر گئی تھیں، تاکہ اختصار اور تلخیص موجود رہے۔ اسی طرح ہم نے اس مقام پر وہ روایات بھی نقل کی ہیں، جو یہ واضح کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب، تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم میں سے کون سے حضرات بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔