سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلاةً فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمْ يَقْرَأْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَلَمْ يَقْرَأْهَا لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَهَا وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِي حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاةَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ ، يَا مُعَاوِيَةُ أَسَرَقْتَ الصَّلاةَ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ ذَلِكَ إِلا قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَلِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَهَا وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں نماز ادا کی۔ انہوں نے اس میں بلند آواز میں قراءت کی، لیکن بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی، نہ انہوں نے سورۃ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، نہ بعد والی سورت سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔ اسی طرح جھکتے ہوئے (یعنی رکوع میں جاتے ہوئے یا سجدے میں جاتے ہوئے) انہوں نے تکبیر بھی نہیں کہی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی اور سلام پھیرا، تو جن مہاجرین اور انصار تک ان کی آواز پہنچتی تھی، انہوں نے بلند آواز میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا: اے سیدنا معاویہ! کیا آپ نے نماز میں کمی کی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے جو بھی نماز ادا کی، اس میں بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، سورۃ فاتحہ سے پہلے بھی اور فاتحہ کے بعد والی سورت سے پہلے بھی (بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی) اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔