سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ صَالِحٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا أَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُخْبِرَكَ بِآيَةٍ ، أَوْ قَالَ : بِسُورَةٍ لَمْ تَنْزِلْ عَلَى نَبِيٍّ بَعْدَ سُلَيْمَانَ غَيْرِي " ، قَالَ : فَمَشَى وَتَبِعْتُهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَأَخْرَجَ رِجْلَهُ مِنْ أُسْكُفَةِ الْمَسْجِدِ وَبَقِيَتِ الأُخْرَى فِي الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي : أَنَسِيَ ؟ قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ ، وَقَالَ : " بِأَيِّ شَيْءٍ تُفْتَحُ الْقِرَاءَةُ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلاةَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : " هِيَ هِيَ " ، ثُمَّ خَرَجَ .ابن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں ایک آیت (راوی کو شک ہے، شاید یہ لفظ) ایک سورت کی تعلیم دوں گا، جو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے بعد آنے والے انبیاء میں سے صرف مجھ پر نازل ہوئی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چل پڑے، تو میں بھی آپ کے پیچھے گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے تک پہنچے اور آپ نے مسجد کی چوکھٹ سے ایک پاؤں باہر نکال لیا اور دوسرا پاؤں ابھی مسجد کے اندر ہی تھا، میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ کوئی وعدہ کیا تھا، شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ”تم نماز کے آغاز میں قراءت کا آغاز کس چیز سے کرتے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: بسم اللہ الرحمن الرحیم سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہی ہے، یہ وہی ہے۔“ پھر آپ تشریف لے گئے۔