سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
قَرَأْتُ فِي أَصْلِ كِتَابِ أَبِي بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِيِّ بِخَطِّ يَدِهِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خَرَّزَاذَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيُّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ مِنَ الصَّلَوَاتِ مَا لا أَحْصِيهَا الصُّبْحَ الْمَغْرِبَ فَكَانَ يَجْهَرُ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَبْلَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَبَعْدَهَا يَقُولُ : مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِيَ بِصَلاةِ أَبِي ، وَقَالَ أَبِي : مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِيَ بِصَلاةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَقَالَ أَنَسٌ : " مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِيَ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .محمد بن متوکل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ کی اقتداء میں فجر اور مغرب کی نماز اتنی مرتبہ ادا کی ہے کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا۔ وہ سورۃ فاتحہ سے پہلے اور اس کے بعد (یعنی اگلی سورت پڑھنے سے پہلے) بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔ میں نے معتمر رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: میں ہمیشہ اپنے والد کے نماز پڑھنے کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا۔ میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: میں ہمیشہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے نماز پڑھنے کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: میں ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کی پیروی کرتا رہوں گا۔