سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے ، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ الأَنْطَاكِيُّ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ ، ثنا أبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الْمَهْدِيُّ الْمَغْرِبَ فَجَهَرَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا هَذَا ؟ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَهَرَ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . قَالَ : قُلْتُ : نُؤْثِرُهُ عَنْكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ.احمد بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: امیر المؤمنین مہدی نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی۔ انہوں نے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”امیر المؤمنین! یہ کیا طریقہ ہے؟“ انہوں نے بتایا: میرے والد نے اپنے والد کے حوالے سے، ان کے دادا کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا ہم اسے آپ کے حوالے سے روایت کر سکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔