حدیث نمبر: 1152
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَغَيْرُهُ ، وَاللَّفْظُ لِيُوسُفَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : ثنا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ افْتِتَاحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ إِذَا كَبَّرَ قَالَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ " .
محمد محی الدین

عطاء بیان کرتے ہیں: میں اور عبید بن عمیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے آغاز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے یہ پڑھتے تھے: ”تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرا نام برکت والا ہے، تیری بزرگی بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1152
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 470، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 865، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 776، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 806، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2384، 2385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1141، 1149، 1150، 1152»
«قال أحمد بن حنبل: منكر جدا ، تهذيب التهذيب: (1 / 341)»