سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ باب: : تکبیر کے بعد نماز کے آغاز کی دعا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنُ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِينِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ وَأَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فِي الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کے آغاز میں یہ پڑھتے تھے: ”میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے، جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے میں نے (ہر غلط دین سے روگرداں ہوتے ہوئے) مسلمانوں کے طور پر اپنا (رخ اللہ کی طرف کیا ہے) اور میں مشرک نہیں ہوں، میری نماز، میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں، اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک ہے، حمد تیرے لیے مخصوص ہے تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے تمام گناہوں کی بخشش کر دے، تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی بخشش نہیں کر سکتا، اچھے اخلاق کی طرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے، اور تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے مجھ سے برے اخلاق کو صرف تو ہی دور کر سکتا ہے، میں حاضر ہوں، بھلائی اور سعادت تیرے دست قدرت میں ہے، وہی شخص ہدایت یافتہ ہے جسے تو ہدایت نصیب کرے میں تیری مدد سے سب کچھ کرتا ہوں تیری طرف رجوع کرتا ہوں تو برکت والا ہے، بلند و برتر ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز میں سجدے میں جاتے تھے اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔