سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ التَّكْبِيرِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ وَالرُّكُوعِ وَالرَّفْعِ مِنْهُ وَقَدْرِ ذَلِكَ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں ، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے ، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الآدَمِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى سَاوَى بِهِمَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ " . قَالَ عَلِيٌّ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ قِيلَ لِي : إِنَّ يَزِيدَ حَيٌّ ، فَأَتَيْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى سَاوَى بِهِمَا أُذُنَيْهِ " ، فَقُلْتُ لَهُ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى أَنَّكَ قُلْتَ : ثُمَّ لَمْ يَعُدْ ؟ قَالَ : لا أَحْفَظُ هَذَا فَعَاوَدْتُهُ ، فَقَالَ : مَا أَحْفَظُهُ.سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کیا، اس کے بعد آپ نے دوبارہ (نماز میں رفع یدین نہیں کیا)۔ علی بن عاصم راوی بیان کرتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو مجھے بتایا گیا یزید نامی راوی حیات ہیں، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی انہوں نے بتایا: عبدالرحمن بن ابولیلی نے سیدنا براء کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کیا۔“ میں نے انہیں کہا: مجھے ابن ابولیلی نے یہ روایت سنائی ہے، آپ نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بعد میں رفع یدین نہیں کیا۔“ تو انہوں نے یہ جواب دیا: ”مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں۔“ میں نے اپنی بات دوبارہ ان کے سامنے دہرائی انہوں نے یہی کہا: ”مجھے یاد نہیں ہے۔“