سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ التَّكْبِيرِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ وَالرُّكُوعِ وَالرَّفْعِ مِنْهُ وَقَدْرِ ذَلِكَ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں ، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے ، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا مَنْكِبَيْهِ ، وَحِينَ أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الأَيْمَنِ وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الأَيْسَرِ وَحَلَّقَ حَلَقَةً وَدَعَا هَكَذَا " . وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِإِصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ ، قَالَ : وَأَتَيْتُهُمْ ، يَعْنِي أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي بَرَانِسِهِمْ فِي الشِّتَاءِ.سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا، یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ آپ کے کندھوں کے برابر آ گئے، پھر جب آپ رکوع میں جانے لگے (اس وقت کیا) پھر جب آپ نے سر اٹھایا (اس وقت کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیٹھنے کے دوران) اپنا دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھا اور بایاں ہاتھ بائیں زانو پر رکھا، پھر آپ نے اپنے (دائیں ہاتھ کا) حلقہ بنایا اور اس طرح اشارہ کیا، سفیان نامی راوی نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں ان حضرات (یعنی صحابہ کرام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان حضرات کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ سردی کے موسم میں اوپر اوڑھی ہوئی چادر میں بھی رفع یدین کرتے تھے۔